کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: ہنسی مذاق میں بھی کسی کو نہ ڈرایا جائے
حدیث نمبر: 3545
وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَبْلٍ مَعَه فَأَخذه فَفَزعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں، محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ وہ رات کے وقت رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، ان میں سے ایک آدمی سو گیا تو کسی شخص نے اپنی رسی لی اور اس کی طرف گیا اور اسے رسی کے ساتھ باندھ دیا تو وہ (سونے والا شخص) گھبرا گیا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے۔ ‘‘ حسن، رواہ ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب القصاص / حدیث: 3545
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (5004)»