کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جانوروں کو بھی آگ میں نہ ڈالا جائے
حدیث نمبر: 3542
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمْرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمْرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا» . وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا قَالَ: «مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ؟» فَقُلْنَا: نَحْنُ قَالَ: «إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلاَّ ربُّ النَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
عبدالرحمٰن بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا (سرخ رنگ کی چڑیا) دیکھی، اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے بچے پکڑ لیے تو وہ پھڑ پھڑانے لگی، اتنے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کس شخص نے اسے، اس کے بچوں کی وجہ سے بے قرار کر دیا؟ اس کے بچے اسے واپس کرو۔ ‘‘ اور آپ نے چیونٹیوں کا ایک مسکن دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اسے کس نے جلایا ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا: ہم نے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے لائق ہے۔ ‘‘ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب القصاص / حدیث: 3542
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2675)»