کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: مرتد کی سزا
حدیث نمبر: 3533
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ بِزَنَادِقَةٍ فَأَحْرَقَهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ لِنَهْيِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ» وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
الشیخ عبدالستار الحماد
عکرمہ بیان کرتے ہیں، علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے تو انہوں نے انہیں زندہ جلا دیا، ابن عباس رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے فرمایا: اگر میں ہوتا تو میں انہیں کبھی زندہ نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی ممانعت موجود ہے (کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا): ’’اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو۔ ‘‘ کی وجہ سے میں انہیں نہ جلاتا اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان: ’’جو شخص اپنا دین (اسلام) بدل لے تو اسے قتل کر دو۔ ‘‘ کے مطابق میں انہیں قتل کر دیتا۔ رواہ البخاری۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب القصاص / حدیث: 3533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6922)»