کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جہنم کے سات دروازوں میں سے ایک دروازے کا بیان
حدیث نمبر: 3530
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ: بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ: عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: «الرِّجْلُ جُبَارٌ» ذُكِرَ فِي «بَابِ الْغَضَب» هَذَا الْبَاب خَال من الْفَصْل الثَّالِث
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن عمر رضی اللہ عنہ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جہنم کے سات دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازہ اس شخص کے لیے ہے جس نے میری امت کے خلاف تلوار اٹھائی، یا فرمایا: ’’(جس نے) محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کے خلاف (تلوار اٹھائی)۔ ‘‘ ترمذی، اور انہوں نے کہا: یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ’’چوپائے کے پاؤں سے لگنے والا زخم رائیگاں ہے۔ ‘‘ باب الغضب میں ذکر کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب القصاص / حدیث: 3530
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3123) ¤٭ وقال أبو حاتم الرازي: جنيد عن ابن عمر: مرسل .¤حديث ’’الرجل جبار‘‘ تقدم (2952)»