حدیث نمبر: 3481
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخطاب قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ وَقَالَ عُمَرُ: لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا. رَوَاهُ مَالِكٌ
الشیخ عبدالستار الحماد
سعید بن مسیّب ؒ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کے قتل کے بدلے میں پانچ یا سات آدمیوں کو قتل کیا انہوں نے اسے دھوکے سے قتل کیا تھا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اس کے قتل پر صنعاء کے تمام لوگ مجتمع ہوتے تو میں (اس کے بدلے میں) سب کو قتل کر دیتا۔ ‘‘ صحیح، رواہ مالک۔