کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: ٹھیکے پر زمین دینا ممنوع ہے مگر کون سی؟
حدیث نمبر: 2975
وَعَن رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا وَكَانَ أَحَدُنَا يُكْرِي أَرْضَهُ فَيَقُولُ: هَذِهِ الْقِطْعَةُ لِي وَهَذِهِ لَكَ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ ذِهِ فَنَهَاهُمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
الشیخ عبدالستار الحماد
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم اہل مدینہ زیادہ تر کاشتکار تھے، ہم میں سے کوئی اپنی زمین کرائے پر دیتا تو یوں کہتا: یہ قطعہ زمین میرا ہے اور یہ تیرا، بسا اوقات یہ قطعہ زمین پیداوار دیتا، اور یہ نہ دیتا، لہذا نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں منع فرما دیا۔ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب البيوع / حدیث: 2975
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2332) و مسلم (1547/117)»