کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: مفلس کی مدد کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 2900
وَعَن أبي سعيد قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دينه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ» فَتَصَّدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِك وَفَاء دينه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ «خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِك» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ایک آدمی کو پھلوں کی تجارت میں خسارہ ہوا تو اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا، اس صورت میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اس پر صدقہ کرو۔ ‘‘ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن وہ اس کے قرض کی ادائیگی کے برابر نہ ہوا، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا: ’’جو ملتا ہے لے لو، تمہارے لیے بس یہی کچھ ہے۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب البيوع / حدیث: 2900
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1556/18)»