کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: قرض لینے اور دینے والے کے بیچ تحفوں کے لین دین کا بیان
حدیث نمبر: 2831
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَي إِلَيْهِ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهُ وَلَا يَقْبَلْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
الشیخ عبدالستار الحماد
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی کسی کو قرض دے، پھر وہ (مقروض) شخص اس کو کوئی تحفہ دے یا اسے سواری پر بٹھائے تو وہ اس پر سوار ہو نہ اس تحفہ کو قبول کرے۔ البتہ اگر ان کے درمیان یہ کام (تحائف کا تبادلہ وغیرہ) پہلے سے ہی جاری ہو تو جائز ہے۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب البيوع / حدیث: 2831
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيحٌ , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (2432) و البيھقي في شعب الإيمان (5532) ¤٭ عتبة: ليس شاميًا و رواية إسماعيل بن عياش عن غير الشاميين ضعيفة .»