کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: حلال کمائی میں تھوڑا سا بھی حرام ملانا جائز نہیں
حدیث نمبر: 2789
وَعَن ابنِ عُمَرَ قَالَ: مَنِ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهَ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَقَالَ: إِسْنَادُهُ ضَعِيف
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جو شخص دس درہم میں کوئی کپڑا خریدے اور ان میں ایک درہم حرام کا ہو تو جب تک وہ کپڑا اس پر رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا، پھر انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال کر فرمایا: اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنی ہو تو یہ دونوں (کان) بہرے ہو جائیں۔ احمد، بیہقی فی شعب الایمان۔ اور فرمایا: اس کی اسناد ضعیف ہیں۔ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب البيوع / حدیث: 2789
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (98/2 ح 5732) و البيھقي في شعب الإيمان (6114، نسخة محققة: 5707 بسند مختلف وقال البيھقي: ’’وھو إسناد ضعيف‘‘ و سنده ضعيف لعلل .) ¤٭ فيه بقية (مدلس) عن الوليد الحمصي عن عثمان بن زفر عن ھاشم (لا أعرفه انظر تعجيل المنفعة ص 428) عن ابن عمر به .»