حدیث نمبر: 2788
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ: شَرِبَ عمر بن الْخطاب لَبَنًا وَأَعْجَبَهُ وَقَالَ لِلَّذِي سَقَاهُ: مَنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِيَ وَهُو هَذَا فَأَدْخَلَ عُمَرُ يَدَهُ فاسْتقاءَه. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
الشیخ عبدالستار الحماد
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا اور انہیں خوشگوار محسوس ہوا۔ جس شخص نے دودھ پلایا تھا اس سے دریافت کیا کہ تو نے یہ دودھ کہاں سے حاصل کیا؟ اس نے بتایا کہ وہ ایک تالاب پر گیا جس کا اس نے نام لیا۔ وہاں زکوۃ کے اونٹ تھے جن کو وہ پانی پلا رہے تھے، انہوں نے مجھے بھی ان کا دودھ دھو کر دیا میں نے دودھ کو اپنے مشکیزے میں ڈال لیا یہ وہ دودھ تھا۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور دودھ کی قے کر دی۔ اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔