حدیث نمبر: 2774
وَعَن وابصَةَ بن مَعْبدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا وَابِصَةُ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ فَضَرَبَ صَدْرَهُ وَقَالَ: «اسْتَفْتِ نَفْسَكَ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ» ثَلَاثًا «الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ والدارمي
الشیخ عبدالستار الحماد
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وابصہ! تم نیکی اور گناہ کی تعریف پوچھنے آئے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا، جی ہاں، راوی بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں اکٹھی کیں اور میرے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا: ’’اپنے نفس سے پوچھو، اپنے دل سے پوچھو۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا۔ اور پھر فرمایا: ’’نیکی وہ ہے جس پر نفس اور دل مطمئن ہو جائے، جبکہ گناہ یہ ہے کہ وہ تیرے نفس میں کھٹکے اور دل میں تردد پیدا کرے اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیں۔ ‘‘ سندہ ضعیف، رواہ احمد و الدارمی۔