حدیث نمبر: 2762
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشبهاب استبرَأَ لدِينهِ وعِرْضِهِ ومَنْ وقَعَ فِي الشبُّهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُله أَلا وَهِي الْقلب»
الشیخ عبدالستار الحماد
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، جبکہ ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں۔ بہت سے لوگ انہیں نہیں جانتے، پس جو شخص شبہات سے بچ گیا تو اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا، اور جو شخص شبہات میں مبتلا ہو گیا تو وہ حرام میں مبتلا ہو گیا، جیسے وہ چرواہا جو چراگاہ کے آس پاس چراتا ہے، تو قریب ہے کہ وہ اس (چراگاہ) میں چرائے گا، سن لو! بے شک ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، سن لو! بے شک اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں: سن لو! جسم میں ایک لوتھڑا ہے، جب وہ درست ہو جاتا ہے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے، یاد رکھو! وہ دل ہے۔ ‘‘ متفق علیہ۔