حدیث نمبر: 2714
وَعَن عبدِ الرَّحمنِ بنِ يَعمُرَ الدَّيْلي قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أيَّامُ مِنىً ثلاثةَ أيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّالِثِ
الشیخ عبدالستار الحماد
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’حج وقوفِ عرفات ہی ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے عرفہ میں قیام کر لے تو اس نے حج پا لیا، اور منیٰ کے ایام تین ہیں، جو شخص دو دن میں جلدی کر کے فارغ ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ ‘‘ ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔