کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: حائضہ عورت کے لیے طواف وداع ضروری نہیں
حدیث نمبر: 2669
وَعَن عائشةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قيل: نعم. قَالَ: «فانفري»
الشیخ عبدالستار الحماد
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، کوچ (کے دن) کی رات صفیہ رضی اللہ عنہ کو حیض آ گیا، تو انہوں نے عرض کیا، میرا خیال ہے کہ (طوافِ وداع کی وجہ سے) میں نے تمہیں روک دیا ہے، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’(عرب کے محاورے کے مطابق) بے اولاد، سر مُنڈی یا حلق میں بیماری والی، (اس سے بددعا مراد نہیں، بلکہ جیسے کہا جاتا ہے: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ویسے ہی یہ الفاظ ہیں) کیا اس نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا؟‘‘ آپ کو بتایا گیا: جی ہاں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’پھر (مدینہ کی طرف) کوچ کرو۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب المناسك / حدیث: 2669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1771. 1772) و مسلم (387 / 1211)»