کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: قربانی کا جانور راستے میں بیمار ہو جائے تو کیا کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 2635
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةٌ عَشَرَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: «انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أهل رفقتك» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ قربانی کے سولہ اونٹ بھیجے اور اسے ان پر امیر مقرر کیا، تو اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی چلنے سے عاجز آ جائے تو پھر میں کیا کروں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اسے نحر کر دینا اور اس (کےقلادے) کے جوتے اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر نشان لگا دینا اور اس میں سے تم اور تمہارے ساتھی نہ کھائیں۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب المناسك / حدیث: 2635
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيحٌ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1325/377)»