کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: رمی یعنی شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں مزدلفہ کے راستے اٹھانا
حدیث نمبر: 2610
وَعَن الفضلِ بن عبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا: «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةَ» . وَقَالَ: لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ. رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن عباس رضی اللہ عنہ ، فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں سے، جبکہ وہ واپس آ رہے تھے، فرمایا: ’’آرام سے آؤ۔ ‘‘ جبکہ آپ اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روک رہے تھے، حتی کہ آپ وادی محسر میں داخل ہو گئے جو کہ منیٰ کے قریب ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جمرہ کی رمی کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی کنکریاں لے لو۔ ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمرہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب المناسك / حدیث: 2610
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1282/268)»