کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الاحزاب میں) فرمان ”نبی کے گھروں میں نہ داخل ہو مگر اجازت لے کر جب تم کو کھانے کے لیے بلایا جائے“۔
حدیث نمبر: Q7262
فَإِذَا أَذِنَ لَهُ وَاحِدٌ جَازَ .
مولانا داود راز
ظاہر ہے کہ اجازت کے لیے ایک شخص کا بھی اذن دینا کافی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أخبار الآحاد / حدیث: Q7262
حدیث نمبر: 7262
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي بِحِفْظِ الْبَابِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے دروازہ کی نگرانی کا حکم دیا ، پھر ایک صحابی آئے اور اجازت چاہی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ۔ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی بشارت دے دو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أخبار الآحاد / حدیث: 7262
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7263
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : " جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ ، وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ ، فَقُلْتُ : قُلْ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَأَذِنَ لِي " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے عبید بن حنین نے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کا ایک کالا غلام سیڑھی کے اوپر ( نگرانی کر رہا ) تھا میں نے اس سے کہا کہ کہو کہ عمر بن خطاب کھڑا ہے اور اجازت چاہتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أخبار الآحاد / حدیث: 7263
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»