کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: سب سے اچھی دعا عافیت کی دعا ہے
حدیث نمبر: 2490
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: «فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب إِسْنَادًا
الشیخ عبدالستار الحماد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عافیت و معافات (باہم درگزر کرنا) مانگو، پھر وہ دوسرے روز حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ہے؟ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح فرمایا، پھر تیسرے روز آپ کے پاس آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پھر ویسے ہی فرمایا، اور فرمایا: ’’جب تجھے دنیا و آخرت میں عافیت و معافات مل گئی تو تُو کامیاب ہو گیا۔ ‘‘ ترمذی۔ ابن ماجہ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے اور اس کی سند غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الدعوات / حدیث: 2490
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3512) و ابن ماجه (3848) ¤٭ سلمة بن وردان ضعيف: ضعفه الجمھور .»