کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جنت کا داخلہ پوری نعمت ہے
حدیث نمبر: 2432
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو يَقُولُ: اللهُمَّ إِني أسألكَ تمامَ النعمةِ فَقَالَ: «أيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» قَالَ: دَعْوَةٌ أَرْجُو بِهَا خَيْرًا فَقَالَ: «إِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ» . وَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ: «قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ» . وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ فَقَالَ: «سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَاسْأَلْهُ الْعَافِيَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا: ’’اے اللہ! میں تجھ سے اتمام نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ ‘‘ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کون سی چیز اتمام نعمت ہے؟‘‘ اس نے کہا: دعا جس کے ذریعے میں خیر (مال کثیر) کی امید کرتا ہوں۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اتمام نعمت تو جنت میں داخلہ اور جہنم سے خلاصی ہے۔ ‘‘ اور آپ نے کسی دوسرے آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا: ’’اے جلال و اکرام والے!‘‘ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تمہاری دعا قبول ہو گئی، اب سوال کرو۔ ‘‘ اسی طرح نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا: ’’اے اللہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔ ‘‘ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تم نے اللہ سے مصیبت مانگی ہے، اس سے عافیت کا سوال کرو۔ ‘‘ حسن، رواہ الترمذی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الدعوات / حدیث: 2432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (3527)»