کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: مذکورہ دعا پڑھنے کی برکت سے آگ سے خلاصی
حدیث نمبر: 2396
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهِ فَقَالَ: «إِذَا انْصَرَفْتَ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ ثُمَّ مِتَّ فِي لَيْلَتِكَ كُتِبَ لَكَ جَوَازٌ مِنْهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
الشیخ عبدالستار الحماد
حارث بن مسلم تمیمی اپنے والد سے اوروہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آہستگی سے ان سے فرمایا: ’’جب تم نماز مغرب سے فارغ ہو جاؤ تو کسی سے بات کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ دعا پڑھو: ’’اے اللہ! مجھے آگ سے بچا لے۔ ‘‘ اگر تم نے یہ دعا پڑھ لی اور اسی رات فوت ہو جاؤ تو تمہارے لئے اس (آگ) سے خلاصی لکھ دی جائے گی۔ اور جب تم نماز صبح پڑھو تو اسی طرح کہو، اگر تم اسی دن فوت ہو گئے تو تمہارے لئے اس (آگ) سے خلاصی لکھ دی جائے گی۔ ‘‘ حسن، رواہ ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الدعوات / حدیث: 2396
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضَعِيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (5079. 5080) ¤٭ الحارث بن مسلم: حسن الحديث علي الراجح و ما قيل في جھالته فليس بجيد .»