کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: سونے سے پہلے بستر جھاڑنا
حدیث نمبر: 2384
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أرفعه إِن أَمْسَكت نَفسِي فارحمهما وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ . وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ لْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمن ثمَّ ليقل: بِاسْمِك وَفِي رِوَايَةٍ: «فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَإِن أَمْسَكت نَفسِي فَاغْفِر لَهَا»
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی اپنے ب��تر پر آئے تو وہ (پہلے) اپنے ازار کے کنارے سے اپنے بستر کو جھاڑے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد اس پر کون سی چیز آئی، پھر وہ یہ دعا پڑھے: میرے پروردگار! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنے پہلو کو رکھا، اور تیرے نام کے ساتھ ہی اٹھاؤں گا، اگر تو میری جان قبض کر لے تو پھر اس پر رحم فرمانا، اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی اس طرح حفاظت فرمانا جیسے تو اپنے صالح بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔ ‘‘ اور ایک روایت میں ہے: ’’پھر وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹے پھر دعا پڑھے: باسمک۔ ‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ’’اپنے کپڑے کے کنارے سے تین مرتبہ جھاڑے اور کہے اگر تو میری جان قبض کر لے تو اسے بخش دینا۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الدعوات / حدیث: 2384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7393) و مسلم (2714/64)»