کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: آیت کریمہ میں بخشش کی بشارت
حدیث نمبر: 2360
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا بِهَذِهِ الْآيَةِ (يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرفُوا على أنْفُسِهم لَا تَقْنَطوا) الْآيَةَ» فَقَالَ رَجُلٌ: فَمَنْ أَشْرَكَ؟ فَسَكَتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «أَلا وَمن أشرَكَ» ثَلَاث مرَّاتٍ
الشیخ عبدالستار الحماد
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اس آیت ’’میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا‘‘ کے بدلے پوری دنیا کا مل جانا بھی مجھے پسند نہیں۔ ‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا، تو جس نے شرک کیا ہو؟ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا: ’’سن لو! جس نے شرک کیا ہو۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الدعوات / حدیث: 2360
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (275/5 ح 22720) ¤٭ فيه أبو عبد الرحمٰن الجبلاني (صحح) : لم أجد من وثقه، ترجمته في تعجيل المنفعة (ص 499) وغيره و ابن لھيعة ضعيف لاختلاطه و في السند ألوان أخري .»