کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: اللہ کے نام کا واسطہ دے کر کی جانے والی دعا ردّ نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 2289
وَعَن بُرَيْدَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ فَقَالَ: «دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
بُریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، یکتا، بے نیاز ہے، جس کی اولاد ہے نہ والدین، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔ ‘‘ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اس شخص نے اللہ سے اس کے اسم اعظم کے توسل سے دعا کی ہے، جب اس سے اس (یعنی اسم اعظم) کے ساتھ سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا فرماتا ہے، اور جب اس کے ساتھ دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول فرماتا ہے۔ ‘‘ صحیح، رواہ الترمذی (۳۴۷۵) و ابوداؤد (۱۴۹۳)۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الدعوات / حدیث: 2289
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3475) و أبو داود (1493)»