حدیث نمبر: 2269
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ؟ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ؟ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذهبِ والوَرِقِ؟ وخيرٍ لكم مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «ذِكْرُ اللَّهِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّ مَالِكًا وَقفه على أبي الدَّرْدَاء
الشیخ عبدالستار الحماد
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں تمہارے بہترین عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جو کہ تمہارے مالک کے ہاں اجر کے لحاظ سے زیادہ بڑھنے والا، تمہارے بلند درجات کا باعث کا بننے والا، تمہارے لیے سونے، اور چاندی کے خرچ کرنے سے بہتر اور تمہارے لیے دشمن سے ایسا جہاد کرنے سے بہتر جس میں تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑاؤ؟‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، کیوں نہیں! ضرور بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کا ذکر۔ ‘‘ مالک، احمد، ترمذی اور ابن ماجہ۔ البتہ امام مالک نے اسے ابودرداء رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے۔ اسنادہ حسن (رواہ مالک (۱ / ۲۱۱ ح ۴۹۳) و احمد (۶ / ۴۴۷ ح ۲۸۰۷۵، ۵ / ۱۹۵) و الترمذی (۳۳۷۷) و ابن ماجہ (۳۷۹۰)۔