کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: اکیلے ہفتے کے دن کا روزہ رکھنا منع ہے
حدیث نمبر: 2063
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أُخْتِهِ الصَّمَّاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
الشیخ عبدالستار الحماد
عبداللہ بن بسر اپنی بہن صماء سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو الا ّ یہ کہ اس روز اور کوئی ایسا روزہ آ جائے جو تم پر فرض کیا گیا ہے، اگر تم میں سے کوئی انگور کا چھلکا یا کسی درخت کی لکڑی کے ماسوا کچھ نہ پائے تو اسے ہی چبا لے۔ ‘‘ (تاکہ صرف ہفتہ کا روزہ ثابت نہ ہو)۔ اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصوم / حدیث: 2063
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (368/6 ح 27651) و أبو داود (2421) والترمذي (744 وقال: حسن .) ¤و ابن ماجه (1726) والدارمي (2/ 19 ح 1756) [و صححه ابن خزيمة: 2163]»