کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر میں روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ پر عمل نہ کرنے پر ناراض ہونا
حدیث نمبر: 2027
عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ. فَقَالَ: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا، حتیٰ کہ آپ مقام کراع الغمیم پر پہنچے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا، پھر آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا، اسے بلند کیا حتیٰ کہ صحابہ کرام نے اسے دیکھ لیا، پھر آپ نے اسے نوش فرمایا، اس کے بعد آپ کو بتایا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے (ابھی تک افطار نہیں کیا) تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’وہ نافرمان ہیں، وہ نافرمان ہیں۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصوم / حدیث: 2027
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1114/90)»