کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: کھجور ، ورنہ پانی سے افطاری مسنون ہے
حدیث نمبر: 1990
وَعَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. وَلَمْ يَذْكُرْ: «فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ» غَيْرُ التِّرْمِذِيِّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو وہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ وہ باعث برکت ہے، اگر وہ نہ پائے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ وہ باعث طہارت ہے۔ ‘‘ احمد، ترمذی، ابوداؤد، دارمی، لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا: ’’کیونکہ وہ باعث برکت ہے۔ ‘‘ صرف امام ترمذی نے یہ الفاظ ایک دوسری روایت سے نقل کیے ہیں۔ صحیح، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصوم / حدیث: 1990
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (17/4. 18 ح 16326، 16328، 16332) والترمذي (658 وقال: حسن .) و أبو داود (2355) و ابن ماجه (1699) والدارمي (7/2 ح 1708)»