حدیث نمبر: 1810
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: «مَا بلغ أَن يُؤدى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، میں سونے کے پازیب پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! کیا یہ بھی خزانہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ ��وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو مال نصاب زکوۃ کو پہنچ جائے اور اس کی زکوۃ ادا کر دی جائے تو پھر وہ خزانہ نہیں۔ ‘‘ ضعیف۔