حدیث نمبر: 1761
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: يَا عِيسَى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً إِذَا أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللَّهَ وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ يَكُونُ هَذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ؟ قَالَ: أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
الشیخ عبدالستار الحماد
ام درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے ابو درداء رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’’عیسی ٰ! میں تیرے بعد ایک امت بھیجنے والا ہوں، جب انہیں کوئی پسندیدہ چیز ملے گی تو وہ اللہ کی حمد بیان کریں گے، اور اگر کسی ناگوار چیز سے واسطہ پڑ گیا تو وہ ثواب کی امید کے ساتھ صبر کریں گے، حالانکہ کوئی حلم و عقل نہیں ہو گی، انہوں نے عرض کیا: میرے پروردگار! یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ حلم و عقل نہ ہو؟ فرمایا: ’’میں انہیں اپنے حلم و علم سے عطا کروں گا۔ ‘‘ ضعیف۔