کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: چھوٹے بچے جنت کے سیاح ہیں
حدیث نمبر: 1752
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: مَاتَ ابْنٌ لِي فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ شَيْئًا يَطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يلقى أحدهم أَبَاهُ فَيَأْخُذ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم وَأحمد وَاللَّفْظ لَهُ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ میرا بیٹا فوت ہو گیا تو میں نے اس پر بہت غم کیا، کیا آپ نے اپنے خلیل صلوات اللہ علیہ و سلامہ سے کوئی ایسی چیز سنی ہے جس سے ہم اپنے فوت شدگان کے بارے میں اپنے دلوں کو خوش کر لیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ان کے چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے، ان میں سے ایک اپنے والد سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے کپڑے کے کنارے سے پکڑ لے گا، پھر وہ اس سے الگ نہیں ہو گا حتیٰ کہ وہ اسے جنت میں لے جائے گا۔ ‘‘ مسلم، احمد، اور الفاظ مسند احمد کے ہیں۔ رواہ مسلم و احمد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجنائز / حدیث: 1752
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2635/154) و أحمد (488/2ح 10330)»