حدیث نمبر: 1745
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ عَمْرَةُ تبْكي: واجبلاه واكذا واكذا تُعَدِّدُ عَلَيْهِ فَقَالَ حِينَ أَفَاقَ: مَا قُلْتِ شَيْئًا إِلَّا قِيلَ لِي: أَنْتَ كَذَلِكَ؟ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ عَلَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں، عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن عمرہ رونے لگیں اور کہنے لگیں، آہ پہاڑ پر کتنا افسوس آہ اس طرح اور اس طرح، وہ ان کے محاسن بیان کرنے لگیں، جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے فرمایا: آپ نے جو کچھ بھی کہا، وہ مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا تم اسی طرح ہو؟ اور ایک روایت میں یہ نقل کیا ہے: جب وہ (عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ) شہید ہوئے تو پھر وہ ان پر نہ روئیں۔ رواہ البخاری۔