کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: شہداءاحد کی تجہیز و تکفین
حدیث نمبر: 1665
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يجمع بَين الرجلَيْن فِي قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: «أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟» فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہدائے احد کے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے اور فرماتے ’’ان میں سے قرآن کا علم کس کو زیادہ تھا؟‘‘ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے پہلے لحد میں اتارتے، اور فرماتے: ’’میں روز قیامت ان لوگوں کی گواہی دوں گا۔ ‘‘ آپ نے انہیں اسی خون آلودہ حالت میں دفن کرنے کا حکم فرمایا، آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی نہ انہیں غسل دیا گیا۔ رواہ البخاری۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجنائز / حدیث: 1665
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1347)»