کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنا
حدیث نمبر: 1612
وَعَن أنس قَالَ: دخل النَّبِي عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَقَالَ: «كَيْفَ تجدك؟» قَالَ: أرجوالله يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُوبِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيث غَرِيب
الشیخ عبدالستار الحماد
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک نوجوان شخص کے پاس گئے جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھا، آپ نے فرمایا: ’’تم کیسا محسوس کرتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ایسے موقع پر کسی بندے کے دل میں دو چیزیں (امید اور خوف) اکٹھی ہو جائیں تو اللہ اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے جس کی وہ امید کرتا ہے اور جس چیز سے وہ ڈر رہا ہوتا ہے اس سے اسے بے خوف کر دیتا ہے۔ ‘‘ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجنائز / حدیث: 1612
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (983) و ابن ماجه (4261) [وصححه ابن الملقن في تحفة المحتاج (763) ]»