حدیث نمبر: 1608
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ: «اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ» قَالُوا: إِنَّا نَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ مَنِ اسْتَحْيَى مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى وَلْيَحْفَظِ الْبَطْنَ وَمَا حَوَى وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتُ وَالْبِلَى وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَى مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز اپنے صحابہ سے فرمایا: ’’اللہ سے حیا کرو جس طرح اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! الحمد للہ ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ بات نہیں ہے، بلکہ جو شخص اللہ سے ایسے حیا کرتا ہے جیسے حیا کرنے کا حق ہے تو وہ سر اور ان چیزوں کی جو سر میں ہیں (آنکھ، کان، زبان) کی حفاظت کرے، اور وہ پیٹ اور اس کے متعلقات (شرم گاہ، ہاتھ، پاؤں اور دل وغیرہ) کی حفاظت کرے، وہ موت اور بوسیدہ ہونے کو یاد رکھے، اور جو آخرت چاہتا ہے وہ دنیا ترک کر دے۔ جو شخص اس طرح کرے تو اس نے اللہ سے ایسے حیا کیا جیسے اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔ ‘‘ ضعیف۔