کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: مرگی کی بیماری پر صبر کا پھل
حدیث نمبر: 1577
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قَالَ لي ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنهُ: أَلا أريك امْرَأَة من أهل الْجنَّة؟ فَقلت: بَلَى. قَالَ: هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أصرع وَإِنِّي أتكشف فَادع الله تَعَالَى لي. قَالَ: «إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْت الله تَعَالَى أَنْ يُعَافِيَكَ» فَقَالَتْ: أَصْبِرُ فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا
الشیخ عبدالستار الحماد
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں خاتون جنت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور دکھائیں، انہوں نے فرمایا: یہ سیاہ فام خاتون، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے تو میرا ستر کھل جاتا ہے۔ آپ اللہ سے دعا فرمائیں۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اگر تو چاہے تو صبر کر اور تیرے لیے جنت ہے اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں صحت عطا فرمائے۔ ‘‘ اس خاتون نے عرض کیا، میں صبر کروں گی، پھر اس نے عرض کیا: کیونکہ میرا ستر کھل جاتا ہے، لہذا آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلا کرے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجنائز / حدیث: 1577
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5652) و مسلم (2576/54)»