کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: سات چیزوں کو نہ کرنے اور سات چیزوں کو کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 1526
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا: بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْحَرِيرِ والْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَالْقَسِّيِّ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَفِي رِوَايَةٍ وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لم يشرب فِيهَا فِي الْآخِرَة
الشیخ عبدالستار الحماد
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم فرمایا اور سات چیزوں سے ہمیں منع فرمایا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مریض کی عیادت کرنے، جنازوں کے ساتھ شریک ہونے، چھینک مارنے والے کا جواب دینے، سلام کا جواب دینے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے، قسم اٹھانے والے کی قسم پوری کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے کا ہمیں حکم فرمایا، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم، موٹے ریشم، باریک ریشم، سرخ زین پوش، قسی کپڑے سے اور چاندی کے برتن سے ہمیں منع فرمایا، اور ایک روایت میں ہے: چاندی کے برتن میں پینے سے (منع فرمایا) کیونکہ جس نے اس میں دنیا میں پیا وہ آخرت میں نہیں پیئے گا۔ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الجنائز / حدیث: 1526
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1239) و مسلم (2066/3)»