کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: سفر میں قصر کرنا واجب ہے
حدیث نمبر: 1335
وَعَن يعلى بن أُميَّة قَالَ: قلت لعمر بن الْخطاب: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى (أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا) فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ. قَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صدقته» رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا: ’’(انتقصروا، ، ، ، الذین کفروا) اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں کسی مصیبت میں ڈال دیں گے تو تم نماز میں کچھ کمی کر لو۔ ‘‘ اب تو لوگ پر امن ہیں (کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہیں)، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جیسے آپ کو تعجب ہوا ہے ویسے مجھے بھی تعجب ہوا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: ’’ایک قسم کا صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر کیا ہے، تم اس کی طرف سے صدقہ قبول کرو۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 1335
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (686/4)»