کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: نفلی نماز کی فضیلت
حدیث نمبر: 1322
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: «يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عمل عملته فِي الْإِسْلَام فَإِنِّي سَمِعت دق نعليك بَين يَدي الْجَنَّةِ» . قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لم أتطهر طهُورا مِنْ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر کے وقت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’بلال! مجھے اس عمل کے بارے میں بتاؤ جو تم نے حالت اسلام میں کیا ہو اور جس پر تمہیں ثواب کی بہت زیادہ امید ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تیرے جوتوں کی آواز سنی ہے۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا: مجھے اپنے جس عمل پر ثواب کی بہت زیادہ امید ہے (وہ یہ ہے) کہ میں رات یا دن میں جس وقت بھی وضو کرتا ہوں تو میں اس وضو کے بعد جس قدر مقدر ہو نفل نماز پڑھتا ہوں۔ متفق علیہ
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 1322
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1149) و مسلم (2458/108)»