کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: وتر میں قنوت پڑھنے کا مسئلہ
حدیث نمبر: 1293
عَن الْحسن: أَن عمر بن الْخطاب جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَلَا يَقْنُتُ بِهِمْ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ فَكَانُوا يَقُولُونَ: أبق أبي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
حسن بصری ؒ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی ّ بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر اکٹھا کیا، وہ انہیں بیس رات نماز (تراویح) پڑھایا کرتے تھے، وہ صرف نصف باقی میں قنوت کرتے تھے اور جب آخری دس دن ہوتے تو وہ مسجد میں نہ آتے بلکہ گھر میں نماز تراویح پڑھتے، تو نمازی کہتے: ابی ّ رضی اللہ عنہ بھاگ گئے۔ ضعیف۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 1293
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضَعِيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (1429) ¤٭ قال العيني: ’’إن فيه انقطاعًا فإن الحسن لم يدرک عمر بن الخطاب‘‘ (شرح سنن أبي داود 5/ 343 ح 1399)»