کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: نماز وتر کے بعد نفلی نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1282
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ وَالسَّمَاءُ مُغَيِّمَةٌ فَخَشِيَ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ انْكَشَفَ فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا فَشَفَعَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْح أوتر بِوَاحِدَة. رَوَاهُ مَالك
الشیخ عبدالستار الحماد
نافع ؒ بیان کرتے ہیں، میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ میں تھا، آسمان ابر آلود تھا، انہوں نے صبح کے اندیشے کے پیش نظر ایک رکعت وتر پڑھا، پھر جب موسم صاف ہو گیا تو انہوں نے دیکھا کہ ابھی تو رات باقی ہے، تو انہوں نے ایک رکعت پڑھ کر نماز کو جفت بنا لیا، پھر انہوں نے دو رکعتیں (تہجد) پڑھیں، پھر جب صبح ہونے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھا۔ صحیح، رواہ مالک۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 1282
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (1/ 125 ح 272)»