حدیث نمبر: 1155
وَعَن يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآنِي جَالِسا فَقَالَ: «ألم تسلم يَا زيد؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَسْلَمْتُ. قَالَ: «وَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ؟» قَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ. فَقَالَ: «إِذَا جِئْتَ الصَّلَاةَ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً وَهَذِه مَكْتُوبَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
یزید بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں بیٹھ گیا اور ان کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا: ’’یزید! کیا تم مسلمان نہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا، کیوں نہیں، اللہ کے رسول! میں تو مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے جماعت کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟‘‘ انہوں نے عرض کیا، میں سمجھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہوں گے لہذا میں نے گھر میں پڑھ لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ’’جب تم نماز کے لیے آؤ اور لوگوں کو پاؤ تو پھر تم ان کے ساتھ نماز پڑھو اور اگر تم پڑھ چکے ہو تو پھر وہ تمہارے لیے نفل ہو گی اور یہ فرض۔ ‘‘ ضعیف۔