کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: صفوں کو برابر کرنا کس قدرضروری ہے
حدیث نمبر: 1085
عَن النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى رَأَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتَّى كَادَ أَنْ يُكَبِّرَ فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ فَقَالَ: «عِبَادَ اللَّهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری صفوں کو ایسا برابر کیا کرتے تھے گویا ان کے ساتھ تیروں کو برابر کرتے ہوں، حتیٰ کہ آپ نے سمجھ لیا کہ ہم آپ سے سیکھ چکے ہیں۔ پھر ایک روز آپ تشریف لائے تو کھڑے ہو گئے، قریب تھا کہ آپ تکبیر کہتے کہ آپ نے ایک آدمی کو دیکھا، اس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا ہے، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے بندو! صفیں برابر کیا کرو، ورنہ اللہ تمہارے اندر اختلاف پیدا فرما دے گا۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 1085
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (128 / 436)»