کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جو اذان سنے وہ نماز کے لیے حاضر ہو
حدیث نمبر: 1078
وَعَن عبد الله بن أم مَكْتُوم قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ وَأَنَا ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَحَيَّهَلَا» . وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! مدینہ میں بہت زیادہ موذی جانور اور درندے ہیں، جبکہ میں ایک نابینا شخص ہوں، کیا آپ میرے لیے کوئی گنجائش پاتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم، آؤ نماز کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف (یعنی اذان) سنتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا، جی ہاں۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، ’’پس پھر جلدی آؤ۔ ‘‘ اور آپ نے رخصت نہ دی۔ ضعیف۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 1078
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (553) والنسائي (2/ 110 ح 852) [و صححه ابن خزيمة (1478) والحاکم (1/ 247) ووافقه الذهبي. ]¤٭ سفيان الثوري عنعن و حديث مسلم (653) يغني عنه.»