کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: فجر اور عشاء کی نماز کی فضیلت
حدیث نمبر: 1066
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصُّبْحَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: «إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَو تعلمُونَ مَا فيهمَا لأتيتموهما وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فضيلته لابتدرتموه وَإِن صَلَاة الرجل من الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلَاتَهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، جب سلام پھیرا تو فرمایا: ’’کیا فلاں شخص موجود ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا، نہیں، پھر پوچھا: ’’کیا فلاں شخص موجود ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’یہ دونوں نمازیں منافقوں پر بہت بھاری ہیں، اگر تم جان لو کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو پھر خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑتا تم ضرور آتے اور بے شک پہلی صف (اجر و فضیلت کے لحاظ سے) فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اور اگر تمہیں اس کی فضیلت کا علم ہو جائے تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرو، بے شک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا، اس کے اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اس کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا، اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور جس قدر زیادہ ہو تو وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہیں۔ ‘‘ صحیح، رواہ ابوداؤد و النسائی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 1066
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (554) والنسائي (2/ 104، 105 ح 844) [وابن ماجه (790) و صححه ابن خزيمة (1477) و ابن حبان (429) و للحديث شواھد وھو بھا صحيح. ]»