کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: دورانِ نماز اشارے سے سلام کا جواب دینا
حدیث نمبر: 991
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِم حِين حانوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ نَحوه وَعوض بِلَال صُهَيْب
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب صحابہ کرام نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا کرتے تھے تو آپ انہیں کیسے جواب دیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کرتے تھے۔ ترمذی، نسائی کی روایت میں بھی اسی طرح ہے اور بلال کی جگہ صہیب کا ذکر کیا۔ صحیح، رواہ الترمذی و النسائی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 991
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (368 وقال: ’’حسن صحيح‘‘ وسنده حسن) والنسائي (5/3 ح 1188 عن صھيب وھو حديث صحيح) [و صححه ابن خزيمة (888) و ابن حبان (الإحسان: 2258) والحاکم (3/ 12) ووافقه الذهبي.]»