کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جنات کا جواب
حدیث نمبر: 861
وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابه فَقَرَأَ عَلَيْهِم سُورَةَ الرَّحْمَنِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فَسَكَتُوا فَقَالَ: «لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى الْجِنِّ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَكَانُوا أَحْسَنَ مَرْدُودًا مِنْكُمْ كُنْتُ كُلَّمَا أَتَيْتُ على قَوْله (فَبِأَي آلَاء رَبكُمَا تُكَذِّبَانِ) قَالُوا لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
الشیخ عبدالستار الحماد
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور انہیں پوری سورۂ رحمن سنائی تو وہ خاموش رہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جس رات جن آئے، میں نے جب (فبای الاء ربکما تکذبن) ’’تم اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ‘‘ پڑھا، تو انہوں نے بہت اچھا جواب دیا تھا، کہا: ہمارے رب! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی چیز کو بھی نہیں جھٹلاتے، اور ہر قسم کی حمد تیرے لیے ہے۔ ‘‘ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ حسن، رواہ الترمذی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 861
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حَسَنٌ , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (3291) [و صححه الحاکم علٰي شرط الشيخين (2/ 473) ووافقه الذهبي .]¤٭ سنده ضعيف و للحديث شاھد حسن عند البزار (کشف الأستار 74/3 ح 2269) والطبري في تفسيره (72/27) وھو به حسن .»