حدیث نمبر: 848
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لِي: «يَا عُقْبَةُ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟» فَعَلَّمَنِي (قُلْ أَعُوذُ بِرَبّ الفلق) و (قل أَعُود بِرَبّ النَّاس) قَالَ: فَلَمْ يَرَنِي سَرَرْتُ بِهِمَا جَدًّا فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «يَا عُقْبَةَ كَيْفَ رَأَيْتَ؟» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں دوران سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی مہار تھام کر آگے آگے چلا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’عقبہ! کیا میں تمہیں پڑھی جانے والی دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟‘‘ آپ نے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس مجھے سکھائیں، راوی بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سورتوں کی وجہ سے مجھے زیادہ خوش نہ دیکھا، پس جب آپ نماز صبح کے لیے تشریف لائے تو آپ نے نماز فجر پڑھاتے ہوئے یہی دو سورتیں تلاوت فرمائیں، جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’عقبہ! تم نے (ان سورتوں کی عظمت کو) کیسے دیکھا؟‘‘ اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی۔