کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: زمین میں دھنس جانا نمازی کے آگے گزرنے سے ہلکا ہے
حدیث نمبر: 788
وَعَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَهْوَنَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ
الشیخ عبدالستار الحماد
کعب احبار ؒ بیان کرتے ہیں، اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جاتا کہ اسے اس پر کتنا گناہ ملے گا تو وہ سمجھتا کہ اسے دھنسا دیا جائے تو یہ اس کے لیے، اس کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہوتا۔ اور ایک روایت میں ہے: اس پر آسان ہوتا۔ صحیح، رواہ مالک۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 788
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مَوْقُوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (1/ 155 ح 363) ¤٭ زيد بن أسلم برئ من التدليس کما حققته في الفتح المبين تحقيق کتاب المدلسين لابن حجر (ص 23 ت 1/11) ¤٭ قوله: ’’أھون عليه‘‘لم أجده والله أعلم .»