کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: گدھے کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 780
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ فَمَرَرْتُ بَين يَدي الصَّفّ فَنزلت فَأرْسلت الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِك عَليّ أحد
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں ایک دن گدھی پر سوار ہو کر آیا، میں ان دنوں قریب البلوغ تھا، جبکہ رسول اللہ اس وقت کسی دیوار کی اوٹ لیے بغیر منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، پس میں ایک صف کے آگے سے گزرا، پھر میں گدھی سے اترا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور خود صف میں شامل ہو گیا، اور کسی نے بھی مجھ پر اعتراض نہ کیا۔ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 780
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (493) و مسلم (254 / 504)»