کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جہنم کی رب العالمین کے حضور شکایت
حدیث نمبر: 591
وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: بِالظُّهْرِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحر وَأَشد مَا تَجِدُونَ من الزَّمْهَرِير . وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: «فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ فَمِنْ سَمُومِهَا وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبرد فَمن زمهريرها»
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے ظہر کے متعلق بخاری کی روایت میں ہے: ’’کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ کی وجہ سے ہے، جہنم نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے عرض کیا، میرے رب! میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس، ایک سانس موسم سرما میں اور ایک سانس موسم گرما میں، لینے کی اجازت فرمائی، تم جو زیادہ گرمی اور زیادہ سردی پاتے ہو وہ اسی وجہ سے ہے۔ ‘‘ بخاری، مسلم۔ متفق علیہ۔ اور بخاری کی روایت میں ہے، ’’پس تم جو گرمی کی شدت پاتے ہو تو وہ اس کی گرم ہوا کی وجہ سے ہے، اور تم جو زیادہ سردی پاتے ہو تو وہ اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے ہے۔ ‘‘
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 591
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (537) و مسلم (186/ 617) کلاھما من حديث أبي ھريرة رضي الله عنه، ولحديث أبي سعيد انظر الحديث السابق (590)»